قسم ہے اُس ذاتِ بابرکات کی جو ہر دل کے حال جاننے والی ہے—
یہ نقطۂ نظر اس ناچیز کا نہیں۔
یہ اُس ہستی کا ہے جسے اللہ بزرگ و برتر نے انسانیت کو اندھیروں سے نکالنے کے لیے مبعوث فرمایا،
جو رحمتُ للعالمین کے منصب پر فائز کی گئیں، اور جنہیں اس مقام محمود کے بلند ترین مرتبے پر فائز کرنے کا ہر وعدہ پورا کرنے والے رب ذوالجلال نے وعدہ فرمایا۔۔
جن کا ہر حکم، ہر فیصلہ، ہر رہنمائی،
اللہ کا اٹل حکم ہے۔
نہ جزوی، نہ نسبتی۔۔بلکہ سو فیصد حق۔
یہ ناچیز تو صرف امتِ مسلمہ کو یاد دلانے کی کوشش کر رہا ہے کہ سود وہ لعنت ہے
جس کے خلاف اللّٰہ اور اس کے رسول ﷺ نے اعلانِ جنگ کر رکھا ہے۔
“پھر اگر تم (سود سے) باز نہ آئے تو اللّٰه اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ۔۔ سورۃ البقرۃ 2:279
اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے۔۔
کیا ہم اس جنگ میں اللہ اور رسول ﷺ کے سپاہی بنیں گے؟
یا پھر اس جنگ میں سود لینے اور دینے پر مجبور کرنے والے ابلیس پرست حکمرانوں کا ساتھ دیں گے
یا پھر خاموش رہ کر منافقت کی صف میں کھڑے ہوں گے؟
کیونکہ یاد رکھیے۔۔
جو اس اعلانِ جنگ کے باوجود غیر جانبدار بنے،
قرآن اُس کے انجام کو یوں بیان کرتا ہے:
“بے شک منافق دوزخ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔”
سورۃ النساء 4:145
پاکستان ووٹرز فرنٹ کی جدوجہد
نہ عہدوں کی ہوس سے شروع ہوئی،
نہ دولت کی حرص سے، نہ شہرت کی بھوک سے۔
یہ جدوجہد شروع ہوئی تزکیۂ نفس سے۔۔
اور ربِ ذوالجلال کے ساتھ ایک خاموش مگر پختہ عہد سے۔
اسی اخلاص کی بدولت
اللہ تعالیٰ نے پاکستان ووٹرز فرنٹ کو قومی ترقی اور خوشحالی کا ضامن ایک واضح، جامع اور قابلِ عمل روڈ میپ عطا فرمایا
جو سود سے پاک معیشت کے ذریعے
پاکستان میں بسنے والے پچیس کروڑ انسانوں کی دنیا بھی سنوارنے اور آخرت بھی بچانے کا ضامن ہے۔
یہ کوئی سیاسی نعرہ نہیں۔۔ یہ ایمانی ذمہ داری ہے۔
لیکن سوال یہ ہے:
کیا ہر دل اس پکار کو سن رہا ہے؟
قرآن ہمیں خبردار کرتا ہے کہ
بے حسی ایک کیفیت نہیں،بلکہ روحانی انجام ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی ہے،
اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔”
(سورۃ البقرۃ 2:7)
یہی وہ کیفیت ہے
جہاں انسان دیکھتا بھی ہے مگر سمجھتا نہیں، سنتا بھی ہے مگر مانتا نہیں،بولتا بھی ہے مگر حق کا اقرار نہیں کرتا۔
آج بھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے آج بھی رب کی طرف زبردستی لوٹائے جانے سے پہلے رب کی طرف لوٹنے کا راستہ موجود ہے۔
آج بھی اس جدوجہد میں شامل ہونا
دعاؤں کی قبولیت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
لیکن خاموش رہنا
اس بے حسی کی علامت بن سکتا ہے
جس کا انجام قرآن نے اندھے، بہرے اور گونگے ہو جانا بتایا ہے۔
اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے:
یا تو آپ حق کی اس جدوجہد میں عملی طور پر شامل ہوں،
اور پاکستان ووٹرز فرنٹ کے ذریعے
اللّٰہ اور اس کے رسول ﷺ کے لشکر کا حصہ بنیں،
یا پھر
تاریخ اور آخرت،
دونوں میں
خاموش تماشائی بن کر جواب دینے کے لیے تیار رہیں۔
جب رب پوچھے گا:
کیا تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت نہیں آئی تھی؟
کیا تم نے مال و متاع، مفاد اور دنیا کی خاطر
اس ہدایت کو جان بوجھ کر اہمیت دینے سے انکار نہیں کیا تھا؟
تو اس دن انسان کے پاس
نہ دلیل ہوگی،
نہ عذر،
نہ فرار کا راستہ۔
قرآن گواہی دیتا ہے:
“کیا تمہارے پاس رسول کھلی نشانیاں لے کر نہیں آئے تھے؟
تو تم نے کہا۔۔ کیا اللّٰه نے انسان کو رسول بنا کر بھیجا ہے؟
(قرآن مجید — سورۃ الإسراء 17:94)
پھر وہی انسان،
جس نے دنیا میں رب کے حکم کو ٹالا،
گڑگڑا کر کہے گا:
اے میرے رب!
میری ساری دولت،
میری ساری دنیا
کے بدلے مجھے صرف ایک بار واپس بھیج دے۔۔۔
میں تیرا ہر حکم بجا لاؤں گا!
لیکن قرآن اعلان کرتا ہے ۔۔۔اگر انہیں واپس بھی بھیج دیا جائے
تو یہ پھر وہی کریں گے
جس سے انہیں منع کیا گیا تھا۔۔۔
اور یہ جھوٹے ہیں۔
(سورۃ الأنعام 6:28)
تب رب کا فیصلہ سنایا جائے گا۔۔۔
اب مہلت ختم ہو چکی۔۔۔۔
اب نہ واپسی ہے، نہ تاخیر۔۔۔۔
“اور جب ان میں سے کسی کو موت آتی ہے تو کہتا ہے:
اے میرے رب! مجھے واپس لوٹا دے…
ہرگز نہیں! یہ تو ایک بات ہے جو وہ کہنے والا ہے۔”
(سورۃ المؤمنون 23:99–100)
اور پھر حکم ہوگا:
اب چکھو اس عذاب کا مزہ۔۔
ہمیشہ کے لیے۔۔۔
اپنی نافرمانی کا،
اپنی سرکشی کا،
اپنے کفر اور اپنی منافقت کا۔۔۔
“آج تمہیں رسوا کن عذاب دیا جائے گا
اس تکبر کے بدلے جو تم زمین میں ناحق کرتے تھے۔۔۔۔
اور اس نافرمانی کے بدلے جو تم کرتے رہے۔۔۔
(سورۃ الأحقاف 46:20)
یہ یاد دہانی ہے۔
واپسی سے پہلے،
حساب سے پہلے،
اور اُس دن سے پہلے
جب صرف پچھتاوا باقی رہ جائے گا۔۔
اور عمل کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہوگا۔
یہ تحریر یاد دہانی ہے۔
اور یاد دہانی۔۔
صرف انہی کو فائدہ دیتی ہے جن کے دل ابھی زندہ ہیں۔ ؟
یہ دعوت عام ہے۔ یہ پکار ہے۔۔
کہ انسان رب کا حکم مانے،
اور رب کا نظام نافذ کرے؛
کیونکہ دنیا و آخرت کی فلاح اسی میں ہے۔
قرآن واضح کرتا ہے کہ
طاقت کا اصل منبع اکثریت کا ہجوم نہیں بلکہ اللّٰه کی ہدایت ہے:
“اگر تم زمین میں بسنے والوں کی اکثریت کی پیروی کرو گے
تو وہ تمہیں اللّٰہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے۔”
سورۃ الأنعام 6:116)
یہی وہ مقام ہے جہاں
سروں کو گننے والی نام نہاد جمہوریت
فرعونیت کی نئی صورت بن جاتی ہے۔۔
جس میں عدد طاقت بن جاتا ہے۔۔۔
اور حق دب جاتا ہے۔
قرآن فرعون کی اصل پہچان یوں بیان کرتا ہے:
“بے شک فرعون نے زمین میں سرکشی کی
اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں بانٹ دیا…”
(سورۃ القصص 28:4)
یعنی تقسیم، جبر، اور خودساختہ اختیار۔۔۔
یہی فرعونیت ہے،
چاہے وہ کسی بھی نام سے آئے۔۔۔
اس کے مقابلے میں قرآن جس نظام کو پیش کرتا ہے
وہ شورائیت ہے۔۔
انسانوں کو تولنے والا نظام،
جہاں رائے عدل کے تابع ہو اور اختیار نفیٔ نفس سے مشروط ہو۔۔
“اور ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے پاتے ہیں۔
(سورۃ الشوریٰ 42:38)
یہ شورائیت
اکثریت کی آمریت نہیں،
بلکہ عدل کی امانت ہے؛
“اے ایمان والو!
عدل پر مضبوطی سے قائم رہو۔۔
اللّٰہ کے لیے گواہی دیتے ہوئے۔۔
(سورۃ النساء 4:135)
اور یاد رکھیں کہ اطاعت کا پیمانہ بھی قرآن نے طے کر دیا
“اطاعت کرو اللّٰه کی، اطاعت کرو رسول کی…”
(سورۃ النساء 4:59)
پس جہاں
قانون وحی کے تابع نہ ہو،
جہاں اختیار جوابدہی سے آزاد ہو،
اور جہاں انسان عدد بن جائے۔۔
وہ نظام، چاہے جمہوریت کہلائے،
جہاد نہیں، جبر ہے۔
اور جہاں
اللہ کی ہدایت معیار ہو۔۔۔۔ مشاورت عدل کے تحت ہو،
اور قیادت نفس کی نفی کرے۔۔
وہی شورائیت ہے
اور وہی بنی نوعِ انسان کی فلاح کی ناگزیر ضرورت۔
یہی حق ہے۔
اور حق ہی باقی رہتا ہے۔
باطل مٹ جاتاہے۔۔
امت کو تقسیم کرنے والے سیاسی و مذہبی گروہ سازی کے عمل کو روکنے اور خوفِ آخرت پیدا کرنے ، اور خودساختہ قیادت کی حوصلہ شکنی کرنے براہِ راست قرآنی احکام کی روشنی میں
جدوجہد کرتے ہوئے ۔۔۔!
یہ امت کے لیے آخری تنبیہ ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ نے امتِ مسلمہ کو واضح، غیر مبہم اور اٹل حکم دیا:
“اور سب مل کر اللّٰه کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو
اور تفرقہ میں نہ پڑو…”
(قرآن مجید — سورۃ آلِ عمران 3:103)
یہ حکم کسی دور، کسی مصلحت یا کسی سیاسی ضرورت کے تابع نہیں۔
یہ اللہ کا ابدی فرمان ہے۔
اس کے باوجود
جو لوگ اقتدار، شہرت، چندے یا ذاتی اثر و رسوخ کے لیے
نئی نئی سیاسی و مذہبی جماعتیں بنا کر
امت کو ٹکڑوں میں بانٹتے ہیں،
وہ دراصل اللہ کے اس حکم کے خلاف دیوار کھڑی کرتے ہیں
جو ہدایت کے راستے کو سیدھا رکھنے کے لیے نازل کیا گیا تھا۔
قرآن ایسے لوگوں کے انجام کے بارے میں کوئی ابہام نہیں چھوڑتا:
“بے شک جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا
اور گروہوں میں بٹ گئے،
آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔
ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے…”
(سورۃ الأنعام 6:159)
یہ آیت محض اختلافِ رائے کی نہیں،
بلکہ دین کو سیاسی ہتھیار بنانے
اور امت کو منظم شعور سے کاٹنے والوں کے بارے میں ہے۔
آج
جو لوگ قوم کی ترقی، معیشت، عدل اور اجتماعی فلاح
کی کوئی واضح حکمتِ عملی دیے بغیر
ہر روز نئی جماعت، نیا جھنڈا، نیا نام لے آتے ہیں—
وہ قوم کو آگے نہیں لے جا رہے،
بلکہ ہدایت کے راستے پر دیوار کھڑی کر رہے ہیں۔
ایسے عمل کو
نہ “اجتہاد” کہا جا سکتا ہے،
نہ “خدمتِ دین”
اور نہ ہی “سیاسی جدوجہد”۔
یہ عمل اللہ کے نزدیک بغاوت ہے،
اور اس کا انجام
نہ دنیا میں عزت ہے
اور نہ آخرت میں نجات۔
اب بھی وقت ہے۔
جو خود کو رہنما کہتے ہیں
وہ اللہ کے اس حکم کے آگے سر جھکائیں،
امت کو جوڑیں، توڑیں نہیں،
نظام پیش کریں ،نعرے نہیں،
اور اپنی ذات کو نہیں
بلکہ اللہ کی رسی کو مرکز بنائیں۔
کیونکہ
اللّٰہ کے ہاں کامیاب وہ نہیں جو مذہبی یا سیاسی جماعتیں بنائے اور اپنے اپنے خود ساختہ مذہبی اور سیاسی باطل نظریات کے پیچھے لگا کر امت کو تقسیم کرے ،
بلکہ وہ ہے جو امت کو سیاسی اور مذہبی تفرقوں سے بچا کر حرم کی پاسبانی کے لیے متحد کرے۔
اور یہی قوم کی ترقی، خوشحالی
اور آخرت کی نجات کا واحد راستہ ہے۔
جاوید تنویر
پاکستان ووٹرز فرنٹ
حق کا بول بالا اور باطل کو مٹانے کی عملی جدوجہد میں شمولیت کی دعوت حق میں آن لائن شمولیت کے لیے
www.pvf.org.pk پر کلک کریں
پاکستان ووٹرز فرنٹ کے منشور لائحہ عمل اور قران اور حدیث کی روشنی میں تیار عوامی انتخابی پروگرام کے تفصیلی تعارف کے لئے لاہور پریس کلب میں مورخہ 07 جون 2018 کو ایک پریس کانفرنس منعقد ہوئی جس میں جاوید تنویر پاکستان ووٹرز فرنٹ نے صھافیوں کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ووٹرز اب تمام م قومی اسمبلی کے حلقوں میں ووٹروں کے منظم الیکٹورل کالج بنائے جائیں گے جو منتخب ہونے والے قومی اور صوبائی ارکان اسمبلیوں سے انفرادی ،اجتماعی اور قومی مثائل عوای امنگوں کے تحت حل کراسکیں گے۔ اور قومی امور میں براہ راست اپنی مشاورت دے سکیں گے۔
پاکستان ووٹرز فرنٹ پاکستان کے نو کروڑ سترلاکھ ووٹروں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اپنے اپنے قومی اسمبلی کے خلقوں کی سطح پر اپنے علاقوں میں موجود ایماندار، پڑھے لکھے اور باصلاحیت افراد کےکاغذات نامزدگی برائے امیدواران قومی و صوبائی اسمبلی متعلقہ دفتر الیکشن کمیشن میں ۱۱۔جون ۲۱۰۸ تک جمع کر ادیں ۔تا کہ کا غذاتِ نامزدگی کی منظوری حاصل کرنے والے امیدواروں کے متعلق معلومات اکٹھی کر کے ان میں سے بہرتین افراد کو چن کر عوامی انتخابی پروگرام کے تحت آئندہ انتخابات میں کامیاب کروایا جا سکے۔